نئے سال کی نئی خُوشیوں کی اُمید رکھنا اور خواہش کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں اور نہ ہی یہ کوئی بُری بات ہے- ـ اِنسان امِیر ہو یا غریب ہر کوئی اپنی اپنی حیثیت میں رہتے ہُوئے نئے سال کی پیش بندی کے لئے اپنی ترجیحات کو طے کرتا ہے- ـ پُوری دُنیا اِس دور میں سنِ عِیسوی کے مُطابق چل رہی ہے- ـ ہمارے مُلک میں سال کے اِس پہلے دِن کی شُروعات ہی بہت عجیب اور بے ڈھنگے طریقے سے ہوتی ہے ـ
سب لوگ خواہش مند ہوتے ہیں کہ نیا سال خُوشیوں بھرا آئے اور امن و امان کا آئے- ـ جی ہاں امن و امان ـ یہی ہم بھی چاہتے ہیں کہ امن و امان سے ہمارے مُلک میں بھی نئے سال کی شُروعات ہوں ـ
کیوں نہ نئے سال کی شُروعات نئے ڈھنگ سے ہو
نفرت کا دروازہ بند کریں مُحبت کی اُمنگ سے ہو
اِنسانیت کے بِیج بوئیں قُربتیں بڑهائیں اِنسانوں میں
جِینے دیں دُوسروں کو جِینے کی ترنگ سے ہو
دُنیا کے امن پہ چھائے کالے بادلوں کو ہٹا کر
خُوشیاں بانٹیں اور پھُولوں کلِیوں کے رنگ سے ہو
نہ حملہ آور ہوں ایک دُوسرے کے مذاہِب پر
نہ ہی مُلکوں کی آپس میں کبھی جنگ سے ہو
لفظوں کی لڑائی ہو، نہ للکار نہ تماشے ہوں
حاصِل کُچھ بھی نہیں ٹکر نہ مردِ آہنگ سے ہو
نیو ائیر پر ہونی والی تمام تقریبات کو بھی منسوخ کر دیا جاتا۔اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف یورپ متحد ہو رہا ہے ۔ توہین آمیز خاکے بنانے والے لوگوں کو باز رکھنے کے لئے اِقتدامات کرنے کی ضرُورت ہے تاکہ دُنیا میں ایک بڑی تعداد کے لوگوں کی دِل آزاری نہ ہو
ہمارے مُلک میں مسیحوں کے ساتھ مذہبی انتہا پسندی – مذہبی دہشت گردی نے خُوب زور پکڑا ہُوا ہے -اسلحہ سے لیس لوگوں چرچوں میں گھُس کر آگ لگا دیتے ہیں۔ آگ سے چرچ ، مذہبی کُتب ، فرنیچر اور عبادت میں اِستمعال ہونے والی دیگر اشیاء جل کر راکھ ہو جاتی ہیں ۔
نابالغ لڑکیوں کو اغوا کرکے اُن سے زبردستی اسلام قبُول کروا کے اُن کا نکاح اغوا کار سے پڑھا دِیا گیا ۔
معمُولی تنازع میں مسِیحی نوجوانوں کا کا قتل ۔ یہ ہے ہم مسِیحیوں کا نئے سال کا آغاز ۔
ہم پُوری دُنیا کے لوگوں کے لئے امن چاہتے ہیں خواہ وہ بوکو حرام کے ڈسے اور ظُلم خُوردہ لوگ ہوں نائیجیریامیں۔ ٹی ٹی پی کے ، راشٹریہ سیوک سنگ کے یا دُنِیا کی کِسی بھی اِنتہا پسند یا مذہبی دہشت گرد تنظِیم کے ستائے اور ظُلم سے نڈهال لوگ ہوں ۔ ہِندُوستان کی بجرنگ دل ہو ، ہِندُو وِشوا پریشد ہو یا کوئی اور تنظِیم جو مذہب کو اِستمعال کر کے یا مذہب کی آڑ میں چُھپ کر بے گُناہ اِنسانوں کی جانیں لیتے ہیں ۔ ایسے لوگ صدبار قابلِ مُذمت ہیں ۔
نہ ہم نے بابری مسجد کو شہِید کرنا پسند کِیا ۔ نہ چرچوں ، بائبل مُقدس کو آگ لگانا یا قُرآن کرِیم کو جلانا پسند کِیا نہ مسجدوں اور امام بارگاہوں میں بم چلانا قبُول کِیا ۔ نہ کِسی مندر یا گُردیوارے کو جلانا یا مِسمار کرنا اور کرنے والوں کو اچھا سمجھا یا اُن کی حمایت کی ۔ ہم نے دُنیا میں اِنسانوں اور اِنسانِیت کو سپورٹ کِیا ۔ نہ کِسی مذہب کو ۔ نہ رنگ کو ۔ نہ فِرقے کو ۔ اور نہ پیشے کو حقِیر جانا یا سمجھا ۔ ہم مسِیحیوں کا طُرہء اِمتیاز یہ رہا ہے کہ سب کی قدر کرتے ہیں ۔ سب کی عِزت کرتے ہیں ۔ متی کی انجِیل میں لِکها کہ اپنے پڑوسی سے مُحبت رکھ لیکن خُداوند یسُوع المسِیح نے فرمایا کہ اپنے دُشمنوں سے مُحبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا کرو ۔ اگر تُو قُربان گاہ پر اپنی نذر گُذرانتا ہو اور تُجھے یاد آئے کہ تیرا بھائی تُجھ سے شکایت رکھتا ہے تو اُس سے جا کر ملاپ کر اور صُلح کر ۔ اگر تُم اپنے مُحبت رکھنے والوں سے ہی مُحبت رکھو تو تُمہارے لئے کیا اجر ہے ۔ سو ہمیں حُکم ہے اپنے پڑوسی سے اپنی مانند مُحبت رکھنے کی ۔
دُنیا اب گلوبل وِیلج بن چُکی ہے ۔ تمام مُمالک کو امن اور سلامتی کی ضرُورت ہے ۔ اب گلی مُحلوں کے اندر پھیلی نفرت کو نکال کر دُنیا کے امن اور سلامتی کی دُعا کرنے کی ضرُورت ہے ۔ کیونکہ مرقس کی انجِیل میں لِکھا ہے ُُُُ اور جب تُم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواهیں سُنو تو گبھرا نہ جانا ۔ اِن کا واقع ہونا ضرُور ہے لیکن اُس وقت خاتمہ نہ ہو گا ۔ کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کریگی ۔ جگہ جگہ بھُونچال آئینگے اور کال پڑینگے ۔ یہ باتیں مُصِیبتوں کا شُروع ہی ہونگی ۔
یُوں حالات بیشک اِسی جانب جارہے ہیں تو ہمیں دُنیا کے امن اور سلامتی کی دُعا کرنی چاہئیے اور اِسکے لئے کوشاں رہنا چاہئیے ۔
اِس سِلسلے میں ہمیں وزِیرِ اعظم پاکستان اور چِیف آف آرمی سٹاف فِیلڈ مارشل کے لئے دُعا گو ہونا چاہئے اور کھُل کر حمائت کرنی چاہئیے کہ وہ دُنیا کے اندر پھیلی اور خصُوصاََ مُسلم اور عرب مُمالک میں پھیلی بدامنی اور بے چینی کو دُور کرنے میں کامیاب ہوں ۔
ہماری اُن سے درخواست ہو گی کہ دُنیا کے امن و امان کو محفُوظ بنانے کے بعد مُلک میں اِنتہا پسند عناصر ، دہشت گردوں ، داعش اور طالبان کے حمائتیوں اور حامِیوں کی بھی بیخ کُنی کریں ۔ اقلِیتوں سے اِس طرح کے ناروا سلُوک کو بند کروائیں تا کہ اقلِیتیں تحفظ محسُوس کریں ۔
حکومتی مسیحی لیڈروں کے سفید جھوٹ کہ پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق اور مذہبی آزادی حاصل ہے کا تدارک ہو سکے ۔ حکومتی مسیحی لیڈروں کو بھی اِس بات کا احساس ہونا چاہئیے کہ اُن کے اِس طرح کے جھُوٹوں کے اُوپر اب دُنیا یقِین نہیں کرتی بیشک وہ اپنا آپ بیچ کر اُمرا کی صف میں کھڑے ہو جائیں ۔
جو تھوڑے سے تھوڑے میں دِیانتدار ہے وہ بہُت میں بھی دِیانتدار ہے ۔
اور اگر تُم بیگانہ مال میں دِیانتدار نہ ٹھہرے تو جو تُمہارا اپنا ہے اُسے کَون تُمہیں دے گا؟ بڑی تکلیف دہ صُورتِ حال ہے ۔ ہم بیرُونِ مُلک پاکِستانی یہاں سخت پریشانی کا شکار رہتے ہیں ۔ کیوں نہ ہوں ڈرامے بازیاں دیکھ دیکھ کر آنسُو نِکلتے ہیں ۔ہم اِنسان ہوتے ہُوئے ایسی باتوں کی کب پرواہ کرتے ہیں یُوں ہمیں اِنسانیت کو پہن لینے کی ضرُورت ہےخُدا را پاکِستان کو دُنیا میں نہ بدنام کریں ۔پاکِستان کو صحیح سِمت میں لانے کی ڈالنے کی کوشِش کریں ۔ نیم خواندہ لوگوں کے ہاتھوں تباہی سے بچائیں ۔ مجودہ حالات کے تناظر میں بہت سے تاریک پہلو بھی بڑی شدومد سے روز سامنے آتے رهتے هیں۔ڈالروں کے لالچ میں بدنامی عرُوج پر ہے پُورے پاکِستان میں ، پُوری دُنیا مِیں
تکلِیف دہ مرحلے روز ہی آتے ہیں نیکیوں کا پلڑا اگر بھاری کریں سبھی
کبھی زلزلے سیلاب قیامت ڈھاتے ہیں ایسے ہی ہم اپنے رَب کو مناتے ہیں
لوگ دَب جاتے ہیں چھتوں کے نِیچے تَنی گردن کا سَریا جب نِکال لیتے ہیں
کبھی جان بُوجھ کر اِنسان جلاتے ہیں رُوٹھے مانتے ہیں خُود کو جُھکاتے ہیں
چِیخ و پُکار مار دهاڑ معمُول ہے یہاں طارق تیری باتیں کون سُنتا ہے بھائی
پر پِھر بھی عوام نہیں سمجھ پاتے ہیں تُو ہانک مَت ظالم بغلیں بجاتے ہیں
توبہ کر کے بچیں ظُلم کرنے سے
بچ جاتے ہیں جو دوُسروں کو بچاتے ہیں
سبق آموز باتیں بائبل مُقدس اور دُنِیا کی مُقدس کتابوں میں جگہ جگہ آپ کو پڑھنے کو مِل جائیں گی ۔ اچھے لوگ بھی ہیں صادق اور امِین ہیں ۔کردار ادا کرنے میں پر کُچھ کم تر اور کم ظرف لوگوں بھی کثرت سے ہیں آدمی تو ہر ایک گھر میں پیدا ہوتے رہتے ہیںلیکن کسی کسی گھر میں ہی انسان پیدا ہوتے ہیں؟ (کبیر)
ہم اِنسان ہوتے ہُوئے ایسی باتوں کی کب پرواہ کرتے ہیں یُوں ہمیں اِنسانیت کو پہن لینے کی ضرُورت ہے- پر سوچتے بہت کم ہیں ۔ہم اِنصاف کے آرزُو مند ہیں کیوں نہ ہوں حضرت علی کے قول کوہمیشہ مدِ نظر رکھیں ۔اِسکے ساتھ چرچل کو یاد رکھیں ۔ہمیں إنصاف کی توقع ملکِ عدم سُدھارنے کے بعد ہونی چاہیئے یا رکھنی چاہیئے یا اِس رُوئے زمِین پر بھی رہتے ہُوے ۔ اور غاصب اور قابض دُوسرے کی جگہ ناجائز اثر و رسُوخ اِستمعال کر رہاہے خُدا کے حضُور کِتنی پسندیدہ ہوگی ۔
دُنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے پرِنس آف پِیس کے تعلِیمات کو مدِ نظر رکھنا ہوگا ، نفرت کے بِیج بونے سے گُریز کرنا ہوگا ـحقیقی کرسمس یہی ہے کہ ہم دوسروں کی ضرورت کو پورا کریں اور اِن ٹھکرائے ہوئے اور رّد کئے ہوئے لوگوں میں خوشیاں بانٹیں اور آپس میں پیار محبت اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے روز بروز خُداوند میں بڑھیں
کیونکہ امن کا شہزادہ صُلح چاہتا ہے
میری دُعا ہے کہ خُدا اس نئے سال کی شُوروعات ہمارے ماحول میں اِن الہی حقیقتوں کو عملی طور پر ہمیں امن و امان سے رہنے کا ہمیں فضل بخشے
ریورنڈ ڈاکٹر سیمسن طارق