کالم و مضامین

لاہور کی چھتوں سے آسمان تک پھیلی ہوئی ایک تہذیبی یاد

تحریر: محمد اعجاز ساحر

لاہور کسی شہر کا نام نہیں، لاہور ایک یاد ہے جو صدیوں سے سانس لیتی آ رہی ہے۔ یہ یاد اینٹوں میں نہیں بلکہ موسموں میں بسی ہوئی ہے۔ اس شہر کا مزاج کبھی خاموش نہیں رہتا؛ کبھی وہ راوی کے کنارے بیٹھ کر سوچتا ہے، کبھی اندرونِ شہر کی کسی تنگ گلی میں ہنستا ہے، اور کبھی فروری کی ہلکی دھوپ میں اپنی چھتوں پر رنگ بکھیر دیتا ہے۔

بسنت انہی بکھرتے ہوئے رنگوں کا نام ہے جو لاہور کی اجتماعی یادداشت میں اس طرح پیوست ہیں کہ چاہ کر بھی الگ نہیں کیے جا سکتے۔ بسنت لاہور کے لیے محض ایک تہوار نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے، ایک ایسا لمحہ جس میں شہر اپنے آپ کو پہچانتا ہے۔ سردیوں کی لمبی خاموشی کے بعد جب ہوا میں ہلکی سی شرارت اترتی ہے، جب درختوں کی شاخوں پر نئی کونپلیں نمودار ہوتی ہیں، اور جب سورج کی دھوپ نرم ہو جاتی ہے، تو لاہور کے اندر کوئی پرانی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بسنت یاد آتی ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ بسنت کی جڑیں برصغیر کی قدیم زرعی تہذیب میں پیوست ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب انسان زمین کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ فصلوں کی کٹائی، موسموں کی تبدیلی اور قدرت کے رنگ انسانی زندگی کا حصہ تھے۔ سردیوں کے اختتام اور بہار کے آغاز پر خوشی منانا فطری عمل تھا۔ یہی خوشی وقت کے ساتھ رسم بنی اور رسم تہوار میں بدل گئی۔ یہ تہوار کسی ایک مذہب، طبقے یا دور تک محدود نہ رہا بلکہ انسانی مسرت کا مشترکہ اظہار بن گیا۔

مغل دور آیا تو بسنت نے شاہی رنگ اختیار کیا۔ لاہور، جو اس وقت تہذیب اور اقتدار کا مرکز تھا، اس تہوار کا قدرتی مسکن بن گیا۔ تاریخی حوالوں میں ملتا ہے کہ شاہی قلعے کے صحنوں، شالامار باغ کی روشوں اور فصیلِ شہر کی چھتوں پر بسنت ایک باقاعدہ جشن کی صورت میں منائی جاتی تھی۔ زرد لباس، موسیقی اور پتنگ بازی اس تہوار کا حصہ تھے، مگر سب سے بڑھ کر جو چیز اہم تھی وہ اجتماعیت تھی۔ بسنت نے طاقت اور عوام کے درمیان ایک نرم رشتہ قائم کیا۔

اس دور میں لاہور کی چھتیں صرف اینٹوں کا مجموعہ نہیں تھیں، وہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی خوشیوں کے پلیٹ فارم تھیں۔ ہر چھت پر الگ کہانی تھی مگر آسمان ایک تھا۔ امیر و غریب، استاد و شاگرد، تاجر و مزدور سب ایک ہی آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ “بو کاٹا” کی آواز محض مقابلے کا اعلان نہیں ہوتی تھی، یہ اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ خوشی بانٹی جا رہی ہے۔

وقت بدلا، برطانوی دور آیا، سیاسی نقشے بدل گئے مگر بسنت لاہور کے مزاج میں زندہ رہی۔ نوآبادیاتی دور کے اخبارات، پرانی تصاویر اور ذاتی ڈائریاں اس بات کی گواہ ہیں کہ بسنت شہری ثقافت کا حصہ بن چکی تھی۔ مال روڈ، مزنگ، اندرونِ شہر، شاہدرہ اور نواحی بستیاں اس تہوار کی سانسیں محسوس کرتی تھیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد بسنت نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ یہ تہوار ثقافتی ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمی بھی بن گیا۔ پتنگ سازی، ڈور بنانے کے ہنر، رنگین کاغذ، کھانے پینے کے روایتی ذائقے اور اندرونِ ملک سیاحت سب اس سے جڑ گئے۔ لاہور میں ایسے گھرانے تھے جن کی پوری سال کی روزی بسنت سے وابستہ ہوتی تھی۔ یہ تہوار صرف آسمان پر رنگ نہیں بکھیرتا تھا بلکہ گھروں میں چولہے بھی جلاتا تھا۔

مگر پھر وہ وقت آیا جب خوشی میں لالچ شامل ہو گیا۔ روایت میں غفلت آ گئی۔ کیمیکل ڈور نے اس تہوار کی معصومیت چھین لی۔ انسانی جانیں خطرے میں پڑ گئیں، حادثات ہوئے اور بسنت کے خلاف رائے مضبوط ہوتی چلی گئی۔ ریاست کو سخت فیصلے کرنا پڑے۔ یہ فیصلے انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری تھے مگر ان کے ساتھ لاہور کے آسمان پر ایک خاموشی بھی اتر آئی۔

یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ مسئلہ بسنت نہیں تھا، مسئلہ غیر ذمہ داری اور بدانتظامی تھی۔ دنیا کے کئی ممالک میں آج بھی اسی نوعیت کے تہوار سخت قوانین، واضح ضابطوں اور تکنیکی نگرانی کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔ وہاں روایت کو ختم نہیں کیا جاتا بلکہ محفوظ بنایا جاتا ہے۔

بسنت پر پابندی کے بعد لاہور کی چھتیں خاموش ہو گئیں، آسمان بے رنگ ہو گیا اور ایک پوری نسل نے بسنت کو صرف کہانیوں میں سنا۔ یہ خاموشی اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ کسی دن سنجیدہ غور و فکر کے ساتھ اس روایت کو دوبارہ سمجھا جائے۔

اسی سوچ کی ایک جھلک حکومتِ پنجاب کے اس فیصلے میں نظر آتی ہے کہ فروری 2025 میں 6، 7 اور 8 فروری کو بسنت کے لیے مختص کیا گیا۔ یہ تین دن محض کیلنڈر کی تاریخیں نہیں، یہ لاہور کی تہذیبی یادداشت سے ایک محتاط مصالحت کی کوشش ہیں۔ یہ تسلیم کرنا ہے کہ روایت کو ختم نہیں کیا جاتا بلکہ اسے سمجھ کر سنبھالا جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکاری فیصلوں سے بہت پہلے کچھ لوگ خاموشی سے اس تہذیبی ورثے کو بچانے میں مصروف تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بسنت کو خطرہ نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا۔ گوگی ملک، عمیر مسعود، شیخ شکیل عادل، استاد جاوید بھٹی، عقیل شیخ، استاد قمر انور، ٹیپو سائیں، استاد بھورا، احمد عفی بھائی ساحر، لاہوری، محمد علی کھوکھر اور ان جیسے کئی دوسرے دوستوں نے عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ پتنگ بازی ایک فن ہے اور خوشی کو قانون اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر بھی منایا جا سکتا ہے۔

ان لوگوں نے کیمیکل ڈور کے خلاف آواز اٹھائی، محفوظ پتنگ بازی کے اصول متعارف کرائے اور اس تہوار کی اصل روح کو زندہ رکھنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کے اقدامات شاید اخباری سرخی نہ بنے ہوں مگر لاہور کی تہذیبی تاریخ میں یہ نام خاموشی سے درج ہو چکے ہیں۔

بسنت کی واپسی صرف ایک تہوار کی واپسی نہیں، یہ لاہور کی سماجی اور نفسیاتی صحت کا معاملہ ہے۔ یہ شہر صدیوں سے تہواروں کے ذریعے زندہ رہا ہے۔ یہاں خوشی اجتماعی ہوتی ہے اور یادیں مشترکہ۔ جب تہوار ختم ہوتے ہیں تو شہر اندر سے خالی ہونے لگتے ہیں۔

آج جب شہری زندگی تیز رفتاری، دباؤ اور بے حسی کا شکار ہے، بسنت جیسے تہوار انسان کو انسان سے جوڑنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تہذیب صرف عمارتوں سے نہیں بنتی، روایتوں سے بنتی ہے۔ اور روایتیں ذمہ داری مانگتی ہیں۔

شاید فروری 2025 کی وہ تین تاریخیں لاہور کے لیے محض تین دن نہ ہوں۔ شاید یہ دن ہمیں یہ سکھا جائیں کہ خوشی کو محفوظ بھی بنایا جا سکتا ہے اور زندہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔ شاید اس بار لاہور کی چھتوں پر اڑتی پتنگیں صرف رنگ نہ بکھیرےں بلکہ یہ پیغام بھی دیں کہ یہ شہر آج بھی اپنی تہذیب سنبھالنا جانتا ہے۔ اور شاید بہت عرصے بعد لاہور کا آسمان ایک بار پھر مسکرا اٹھے۔

مصنف کا تعارف

محمد اعجاز ساحر لاہور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ بطور بیورو چیف لاہور اپنی صحافتی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کی تحریر میں لاہور کی تہذیب، تاریخ اور انسانی رشتوں کی گہری جھلک ملتی ہے۔ وہ خبر کو کہانی اور تاریخ کو احساس بنا کر پیش کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button